mambaululoom.in

شرائطِ داخلہ

مدرسہ عربیہ منبع العلوم، فریزر ٹاؤن، بنگلور اور اس کی ذیلی شاخ مدرسہ قصر القرآن، جکور لے آؤٹ، بنگلور میں داخلہ کے لیے درج ذیل شرائط مقرر ہیں۔

عمر

داخلہ کے لیے صرف وہی طلبہ مستحق ہوں گے جن کی عمر 9 سال سے زائد اور 15 سال سے کم ہو۔

داخلہ امتحان

داخلہ طلبہ کی استعداد،ناظرۂ قرآن، حفظ اور تعلیمی صلاحیت کے جائزے کے بعد دیا جائے گا۔ ضرورت کے مطابق زبانی یا تحریری امتحان لیا جا سکتا ہے۔

داخلہ فیس

داخلہ کے وقت ₹20,000 (بیس ہزار روپے) بطور داخلہ فیس جمع کرانا ضروری ہوگا۔

ماہانہ فیس

ہر طالبِ علم کے لیے ₹4,000 (چار ہزار روپے) ماہانہ فیس مقرر ہے، جو ہر ماہ مقررہ تاریخ تک جمع کرانا ضروری ہوگی۔

فیس میں رعایت

ایسے مستحق طلبہ جن کے والدین یا سرپرست مالی دشواری کی وجہ سے مکمل فیس ادا کرنے سے قاصر ہوں، ان کی درخواست اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد مدرسہ کی انتظامیہ صوابدید کے مطابق جزوی یا مکمل فیس معاف کر سکتی ہے۔ ہمارا مقصد کسی مستحق طالبِ علم کو محض مالی مجبوری کی وجہ سے دینی تعلیم سے محروم نہ ہونے دینا ہے۔

مطلوبہ دستاویزات

داخلہ فارم کے ساتھ درج ذیل دستاویزات جمع کرانا ضروری ہوگا

نظم و ضبط

تمام طلبہ کے لیے مدرسہ کے تعلیمی، تربیتی اور انتظامی قوانین کی پابندی لازمی ہوگی۔ حسنِ اخلاق، احترامِ اساتذہ، نماز باجماعت، صفائی اور وقت کی پابندی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

داخلہ کی منظوری

تمام شرائط کی تکمیل اور امتحان میں کامیابی کے بعد داخلہ کی حتمی منظوری مدرسہ کی انتظامیہ کے اختیار میں ہوگی۔

نوٹ: مدرسہ کے تمام قوانین اور ضوابط پر عمل کرنا ہر طالبِ علم اور اس کے سرپرست کے لیے ضروری ہوگا۔ انتظامیہ کو ضرورت کے مطابق شرائط میں مناسب ترمیم یا اضافہ کرنے کا حق محفوظ ہوگا۔

خصوصی نوٹ

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ گندی ذہنیت رکھنے والے لوگ مدارسِ دینیہ کے بارے میں بے بنیاد تصورات اور غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں صرف انتہائی غریب اور نادار طلبہ ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کا لباس، رہن سہن اور صفائی کا معیار مناسب نہیں ہوتا، یا مدارس میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہوتا ہے۔ یہ تمام تصورات حقیقت کے بالکل برعکس ہیں۔

مدرسہ عربیہ منبع العلوم اور اس کی ذیلی شاخ مدرسہ قصر القرآن میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی رہائش، صفائی، صحت، لباس، خوراک، نظم و ضبط اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ادارہ ہر طالبِ علم کو ایک صاف ستھرا، باوقار اور بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا اہتمام کرتا ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ قرآنِ کریم اور دینی علوم حاصل کر سکے۔

یہ بھی واضح رہے کہ مدارس کا نظام اہلِ خیر کے تعاون، صدقات، زکوٰۃ، عطیات اور وقف کی بنیاد پر چلتا ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں حق بات کہنے والے علماء پیدا نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں مدارسِ دینیہ نے ایسے حق گو، مخلص، باعمل اور باکردار علماء پیدا کیے ہیں جنہوں نے دینِ اسلام کی سربلندی، حق کی آواز بلند کرنے اور ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور یہ سلسلہ ان شاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

ہم تمام احباب سے گزارش کرتے ہیں کہ سنی سنائی باتوں پر اعتماد کرنے کے بجائے خود ادارہ کا دورہ کریں، تعلیمی و تربیتی نظام کا مشاہدہ کریں اور حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔