مدرسہ عربیہ منبع العلوم، فریزر ٹاؤن، بنگلور شہرِ بنگلور کا ایک ممتاز دینی و تعلیمی ادارہ ہے جو قرآنِ کریم، علومِ نبوت اور اسلامی اقدار کی اشاعت و ترویج کے عظیم مقصد کے تحت اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔
اس ادارے کی بنیاد بروز اتوار، یکم محرم الحرام 1426ھ، مطابق 8 مئی 2005ء کو حضرت مولانا زبیر احمد رشادی دامت برکاتہم، فرزندِ اکبر امیرِ شریعت کرناٹک، ثالث حضرت الاستاذ مولانا صغیر احمد صاحب رشادی رحمہ اللہ، مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلور نے رکھی۔
آغازِ مدرسہ
حامداً و مصلیاً
مدرسہ کا آغاز ایک کرایہ کی عمارت میں کرناٹک اور بیرونِ ریاست کے سات طلبہ کے ساتھ ہوا۔ ابتدا ہی سے اس ادارے کا مقصد قرآنِ کریم کی تعلیم، حفظِ قرآن، اسلامی علوم کی اشاعت اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت رہا۔
تعمیرِ مستقل عمارت
سن 2010ء میں مسجد حاجی سر اسماعیل سیٹھ، فریزر ٹاؤن کے ماتحت تقریباً 2000 مربع فٹ جگہ کرایہ پر حاصل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کرتے ہوئے مستقل عمارت کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔
اس بابرکت موقع پر امیرِ شریعت کرناٹک ثالث حضرت الاستاذ مولانا صغیر احمد صاحب رشادی رحمہ اللہ، مدرسہ کے سیکریٹری جناب اسحاق صاحب، محترم اعظم صاحب، محترم عارف بھائی، مولانا الحاج زین العابدین صاحب رشادی و مظاہری، مولوی محمد الیاس صاحب رشادی، مولوی محمد عرفان صاحب رشادی، مولوی قمر الدین صاحب، مولوی ارشاد الحق صاحب، جناب سید مبارک صاحب اور جناب حسین صاحب مدراسی سمیت متعدد علماء، ذمہ داران اور اہلِ خیر شریکِ تقریب رہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مخلص اہلِ خیر کے تعاون سے محض ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں 2011ء میں تقریباً 9500 مربع فٹ پر مشتمل شاندار عمارت مکمل ہوئی، جس میں بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور، فرسٹ فلور، سیکنڈ فلور، تھرڈ فلور اور فورتھ فلور شامل ہیں۔
افتتاحِ تعمیرِ جدید
تعمیرِ جدید کا افتتاح بروز اتوار، 10 ذی القعدہ 1432ھ، مطابق 9 اکتوبر 2011ء کو صبح 11:00 بجےحکیم الامت، امیرِ شریعت کرناٹک ثانی حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی صاحب باقوی رحمہ اللہ، مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل الرشاد، بنگلور کی دعاؤں سے عمل میں آیا۔
اسی موقع پر حضرت مولانا ریاض الرحمن صاحب رشادی رحمہ اللہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
"یہ ایک ہائی ٹیک مدرسہ ہے۔"
یہ الفاظ مدرسہ کے منظم، جدید اور معیاری تعلیمی نظام کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔
تعلیمی ترقی
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر سال طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ 2019ء تک زیرِ تعلیم طلبہ کی تعداد 74 تک پہنچ گئی۔ محدود گنجائش کے باعث ہر سال تقریباً 40 تا 50 طلبہ کو داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے واپس جانا پڑتا ہے، جو عوام کے اعتماد اور ادارے کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
الحمد للہ! اب تک 150 سے زائد طلبہ حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔
مدرسہ کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ ہر طالبِ علم حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد اپنے استاذ کو ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم سنا کر اپنی مضبوط یادداشت کا عملی ثبوت پیش کرتا ہے۔ الحمد للہ علیٰ ذلک۔
اکابرین کی سرپرستی
دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور اور دیگر ممتاز دینی اداروں کے اکابر و معزز اساتذۂ کرام نے مختلف اوقات میں مدرسہ کا دورہ فرمایا۔ انہوں نے مدرسہ کے تعلیمی و تربیتی نظام کا مشاہدہ کرکے خوشی اور اطمینان کا اظہار فرمایا اور اپنی قیمتی دعاؤں سے نوازا، جو ادارے کے لیے باعثِ سعادت اور سرمایۂ افتخار ہے۔
دوسری شاخ (مدرسه قصر القرآن ) کا قیام
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اکابرین کی دعاؤں سے مدرسہ نے مسلسل ترقی کی منازل طے کیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 2025ء میں جکور لے آؤٹ، بنگلور میں مدرسہ قصر القرآن کے نام سے دوسری شاخ قائم کی گئی۔
اس مبارک ادارے کا آغاز امیرِ شریعت کرناٹک، ثالثِ فقیہ العلماء حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رشادی رحمہ اللہ کی دعاؤں اور سرپرستی میں عمل میں آیا، جس کے ذریعے دینی تعلیم کا فیض شہر کے ایک نئے علاقے تک پہنچا۔
موجودہ خدمات
الحمد للہ! آج مدرسہ عربیہ منبع العلوم اور اس کی ذیلی شاخیں قرآنِ کریم، حفظِ قرآن، تجوید، اسلامی علوم، دینی تربیت اور ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی کے میدان میں اخلاص اور استقامت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ادارہ کا عزم ہے کہ آنے والی نسلوں تک قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کو بہترین انداز میں پہنچایا جائے، ایسے حفاظ، علماء اور باکردار افراد تیار کیے جائیں جو علم، عمل، تقویٰ اور خدمتِ دین کا روشن نمونہ بن کر امتِ مسلمہ کی رہنمائی کرتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی، قبولیت اور برکت عطا فرمائے اور اس سے وابستہ تمام اساتذہ، طلبہ، معاونین اور محسنین کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔